- 22کروڑعوام کو کورونا اور بھوک سے بچانے کے لیے عالمی ادارے مدد کریں. وزیراعظ >
A
وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے اور معاشی معاملات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اب بڑا مسئلہ بھوک سے لوگوں کی اموات ہیں‘ہمیں ایک طرف لوگوں کو وائرس سے بچانا اور دوسری طرف لاک ڈاﺅن کے باعث بھوک سے لوگوں کو مرنے سے بچانا ہے. عمران خان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کے وسائل کے مقابلے میں بڑے مسائل کا بھی سامنا ہے‘امریکا 2.2 کھرب ڈالر کا بڑا ریلیف پکیج دے سکتا ہے، جرمنی ایک کھرب یورو اور جاپان ایک کھرب ڈالر کا پیکج دے سکتا ہے.
B
پاکستان کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کہا کہ پاکستان میں ہم 22 کروڑ کی آبادی کوزیادہ سے زیادہ 8 ارب ڈالر کا پیکج دے سکتے ہیں، یہ مسئلہ اکثر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ہے. وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو خاص کر قرضوں کی شرح کا مسئلہ ہے، ان مقروض ممالک کے لیے معاشی مواقع کی معدومی کا مسئلہ ہے، ہمارے پاس صحت کے نظام پر خرچ کرنے اور لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانے کے لیے پیسہ نہیں ہے.
عالمی برادری کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں عالمی راہنماﺅں، مالی اداروں کے سربراہان، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں کہ ترقی پذیر اقوام کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے قرضوں میں ریلیف کے لیے ایک منصوبہ شروع کریں. قبل ازیں فائنانسنگ سے متعلق پائیدار ترقیاتی رپورٹ 2020 (ایف ایس ڈی آر) میں قرضوں کے بحران کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا‘رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ کم ترقی یافتہ ممالک جنہوں نے قرضوں کا تقاضا کیا ہے ان کے لیے قرضوں کی ادائیگی کی فوری معطلی بحران پیدا کردے گا.
C
ایف ایس ڈی آر 2020 نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قرضوں کے تباہ کن بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور کووڈ 19 وبائی امراض سے پیدا ہونے والے معاشی اور مالی تباہی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حکمت عملی اختیار کریں. رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر انتہائی کمزور ممالک میں قرضوں کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے، کم ترقی یافتہ اور دوسرے کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک میں سے 48 فیصد قرض کی پریشانی کا شکار ہیں رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور اس سے متعلق عالمی معیشت اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا


0 Comments